گلستانِ سکینہ فاطمہ “مستقبل کا کراچی” ہے، بہادر علی

0
14

ناردرن بائی پاس پر واقع ہاؤسنگ سوسائٹی میں انویسٹمنٹ کے کافی مواقع ہیں؛ فاؤنڈر گلستانِ سکینہ فاطمہ

تعارف

سید بہادر علی زیدی، رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی ڈیلرز کی دنیا میں ایک نام جو اپنی پہچان اپنے کام کو وقت جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مشہور۔ پراپرٹی بزنس میں آئے دن نت نئے لوگوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے، مگر ایسے کم ہوتے ہیں جو کام تو شروع کریں پراپرٹی ایجنٹ کی حیثیت سے مگر سماجی اور معاشرتی تقابل کو مدِنظر رکھتے ہوئے خالصتاََ عوام الناس حرفِ عام میں (وائٹ کالر) لوگوں کے حالات کو جانچتے ہوئے انکی خاطر ایک ہاؤسنگ اسکیم بنا ڈالیں تاکہ وہ بھی اپنی چادر کے پھیلاؤ کے ساتھ ایک چھت تلے رہ سکیں۔

ناردرن بائی پاس کے سنگم پر گلستانِ سکینہ فاطمہ سید بہادر علی کے مقصد کی عکاسی کی ایک مثال ہے۔2003میں بحیثت ایک پراپرٹی ایجنٹ کے اپنی زندگی کی شاہراہ پر قدم رکھنے والے بہادر علی نے2006 میں دیار غیر اور اندرونِ ملک اپنے گھر کا خواب دیکھنے والوں کو حقیقت کا روپ دھارنے کے لیے 32 ایکڑ پر محیط ہاؤسنگ اسکیم کی زمین بچھا دی ہے کہ وہ آئیں اور اس میں اپنے گھر کی زمین حاصل کریں۔

گلستان سکینہ فاطمہ سوسائٹی کا فیس بک پیج لائک کریں
ُ
گلستانِ سکینہ فاطمہ کے فاؤنڈر کی حیثیت سے پراپرٹی پوسٹ نیوز سے بات کرتے ہوئے بہادر علی المعروف شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ ” The best time to buy a home is always five years ago اسلیئے کہ کسی انسان کا زمین پر سب سے بڑا اثاثہ خود اسکی اپنی زمین ہے۔

پراپرٹی پوسٹ نیوز کی ٹیم بشمول محمد احسن، ارشد رضا ، میثم غیور اور غلام رضا نے بہادر علی سے انکے آفس میںپراپرٹی پوسٹ نیوز کے لیے انٹرویو کیا جسمیں انہوں نے تفصیلاً اور اجمالاً اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کی بنیاد اور رئیل اسٹیٹ کے مسائل پر گفتگو کی۔

انٹرویو:
پاکستان میںمہنگائی کا جن اپنی بوتل توڑ چکا ہے، عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے کہ وہ اپنی چھت کا حصول کریں،وہ بھی خاص کر شہر کے اندر، جہا ں کرائے کا مکان ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ہم نے کوشش کی کے ایک ایسی سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں لوگ کم قیمت پر بھی اپنی زمین پر اپنی چھت تلے رہ سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کے سوسائٹی گورنمنٹ کا ادارہ ہے، اسمیں لؤکاسٹ انوسٹمنٹ ہوتی ہے، ایک طرح سے یہ امدادِ باہمی کا ادارہ ہے، جسمیں آج انوسٹمنٹ کریں فیوچر کی اپنے بچوں کے لیئے۔

اسکیم 33 کے متعلق بہا در علی کا کہنا ہے کہ 1970 کی دھائی میں یہ اسکیم بنی تھی ، اسوقت اس پر کوئی توجہ نہ دی گئی، مگر کیونکہ کسی کو کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ کسطرح ڈیولپمنٹ کا کام شروع کریں ، لیکن سُپر ہائیوے پر سٹی ٹاؤنز اور ہاؤسنگ اسکیمز کی موجودگی سے اسکیم 33 میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور وہا ں اب تعمیراتی کام شروع ہو چکے ہیں۔

گلستان سکینہ فاطمہ کے سیکرئٹری پراپرٹی پوسٹ کے ایڈیڑ ارشد رضا سے گفتگو کررہے ہیں
گلستان سکینہ فاطمہ کے سیکرئٹری پراپرٹی پوسٹ کے ایڈیڑ ارشد رضا سے گفتگو کررہے ہیں

گلستانِ سکینہ فاطمہ اسکیم 45 میں واقع ہے، اسکا سنگِ بنیاد 2006 میں رکھا گیا، اسکی پلانگ بہت اچھی ہے، یہ ایم ڈی اے کے انڈر میں آتی ہے، ہم نے اسمیں منظم طریقے سے سرمایہ لگانے کی سہولیات پیدا کی ہیں، لوگوں کو سہولیات مہیا کرینگے کچھ اقدامات اٹھائینگے تب ہی لوگ اسمیںسرمایہ کاری کا سوچینگے۔ایسا ماحول پید کیا ہے کہ لوگ خود بہ خود اسطرف مائل ہوں۔ بہادر علی نے کہا کے اگر آج کوئی گلستانِ سکینہ فاطمہ میں 4-3 لاکھ کا پلاٹ لیتا ہے تو آنے والے آئندہ کچھ سالوں میں وہی پلاٹ 25-20 لاکھ کی قیمت دے جائے گا۔ بقول بہاد ر علی “کہنے والے کہتے ہیں رئیل اسٹیٹ نہ تو کبھی چوری ہو سکتی ہے اور نہ ہی اسکو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسلئیے اپنی دماغی صلاحیتوں کو برؤے کار لاتےہوئے اپنا پیسہ لگائیں اور اسکی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کریں” ۔

سوسائٹی کے لیے زمین حاصل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں پراپرٹی پوسٹ نیوز کی ٹیم کو بہا در علی نے بتایا کے اس سلسلے میں مختلف طریقہ کار ہوتے ہیں، سرکاری زمین اور نجی زمین، دونو طرز کی زمینوں پر سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے، شہر سے باہر زمین لینے کے لیے انہونے کہا کے ، سوسائٹی عموماََ شہر سے باہرمضافات میں ہوتی ہے، وہاں زمین سستی ہوتی ہے، اصل حدف یہ ہوتا ہے کے سوسائٹی کے ممبران اپنے گھر بنا سکیں۔
سوسائٹی کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے سوال پر انہوں نے پراپرٹی پوسٹ نیوز کی ٹیم کو بتایا کہ : یہ ایک مکمل پروجیکٹ ہوتا ہے، جس میں رہائشی پلاٹس کے علاوہ اسکول، مسجد، کمرشل سینٹر، کھیل کود کے لیے پارک، پیٹرول پمپ کی سہولیات کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔
پراپرٹی پوسٹ نیوز کے سوال ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام کیسے عمل پزیر ہوتا ہے کے جواب میں بہادر علی نے کہا کے کسی بھی سوسائٹی کے قیام کے لیے ضروری ھیکہ ممبر بنائے جائیں پھر سوسائٹی کے لیے زمین حاصل کی جاتی ہے۔

گلستانِ سکینہ فاطمہ کے محل و قوع کے بارے میں بہادر علی نے پراپرٹی پوسٹ نیوز کو بتایا کے یہ سوسائٹی اسکیم 45 میں ناردرن بائ پاس پر واقع ہے ۔ انہونے زور دیتے ہوئے کہا کہ “گلستانِ سکینہ فاطمہ فیوچر کا کراچی ” ہے، ماسٹر پلان کے مطابق اس میں اولمپک اسٹیڈیم سے لیکر تمام مارکیٹس ، ائیر پورٹ ، ہسپتال، اسکول ، مساجد اور شہری زندگی سے متعلق تمام سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کے “تقریباً 45 کلومیٹر کا ٹکڑا جو شیر شاہ لنک روڈ سے حب کی طرف جا رہا ہےالحبیب ہوٹل تک، یہ ایک جدید تقاضوں کے مطابق نیا شہر ہوگا،ٗ فیوچر کا کراچی یہی ہے۔ آپ ناردرن بائی پاس پر چلیں تو لیفٹ پر آباد کراچی ہے جبکہ رائیٹ پر غیر آباد تو “فیوچر کاکراچی” یہی ہے۔

گوادر پورٹ کی اور شہر کی تعمیر و ترقی کے سوال پر بہادر علی نے پراپرٹی پوسٹ کو خاص طو ر پر نشاندہی کی کے سی پیک پر جو بھی کام ہو رہا ہے ، گلستانِ سکینہ فاطمہ سے جڑا ہوا ہے، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے روشنی ڈالتے ہوے بتایا کہ گوادر سی پورٹ تک جانے والے راستوں میں سے ایک راستہ ناردرن بائی پاس کا بھی ہے۔ ناردرن بنا ہی اس مقصد کے لیے ہے کہ شہر کراچی سے باہر جتنا بھی ٹریفک یاٹرانسپورٹ ہے، بلوچستان اور کراچی پورٹ کا وہ باہر ہی باہر ناردرن بائی پاس سے نکل کر سُپر ہائیوے پر چڑھ جائے، یہ روٹ اسی ٹریک کو ٹچ کرتا ہے۔ گوادر مستقبل کا اور پاکستان کا ایک بہت بڑا کاروباری حب ہے ، اس وقت کھربوں روپے کی انویسٹمنٹ ہو چکی ہے اس مد میں۔ انہوںنے بتایا کہ اسوقت گوادر جیسے چھٹے شہر میں اطلاعً 200 رئیل اسٹیٹس کام کر ہی ہیں۔ گوادر میںچائنا کے علاوہ بھی پوری دنیا سے انویسٹمنٹ ہو رہی ہے، گوادر کی ترقی سب کی ترقی ہے، اسی لئیے کہتا ہوں :
don’t wait to buy real estate, buy real estate and wait
)رئیل اسٹیٹ خریدنے میں انتظار نہ کریں ، بلکہ رئیل اسٹیٹ خریدیں اور انتظار کریں(

گلستانِ سکینہ فاطمہ کی لوکیشن کے سوال پر بہادر علی نے پراپرٹی پوسٹ نیوز کو بتایا کے “جیسا کے پہلے عرض کر چکا ہوں کے ہماری سوسائٹی اسکیم 45 میں ناردرن بائی پاس پر واقع ہے۔ ناردرن بائی پاس کا آدھا ٹکڑا MDAکہلاتا ہے، اسمیں تمام رہائشی پلاٹس ہیں، اس لئیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، بہت چوڑا اور بڑا روڈ سامنے سے گزر رہا ہے،لوگوں کے لیئے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ اس پروجیکٹ میں انویسٹمنٹ کریں۔
buying real estate is not only the best way, the quickest way, the
safest way, but the only way to become wealthy.
پراپرٹی نیوز سے بات کرتے ہوئے بہادر علی نے کہا کے اگرآپ سروے کرینگے تو آپکو معلوم ہوگا کے مستقبل کی جو گورنمنٹ پلانگ ہے، وہ ناردرن بائی پاس پر ہی ہے، ناردرن بائی پاس ہی مستقبل کا کراچی ہے۔

گلستانِ سکینہ فاطمہ کی تکمیل کے بارے میں بہادر علی نے بتا یا کہ “ہمارا کام اس پروجیکٹ کو فائنالائز کرکے ھینڈ اور کرنا ہے، اب انشاءاللہ جلد ہی لوگوں تک انکی امانت پہنچادینگے۔

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے oversizeپورشنز اور مکانات کو مسمار کرنے سوال پر بہادر علی نے پراپرٹی نیوز کی ٹیم سے کہا کہ “میرے حساب سے یہ زیادتی ہے” یہ پورشنز جب آبادیوں میں بن رہے تھے تو اس وقت متعلقہ اداروں سے اجازت لی تھی، اب وہی ادارے انھیں توڑرہے ہیں! یہ زیادتی ہے۔ بات کو آگے بڑہاتے ہوئے انہونے کہا “پہلے آپ آبادیوں میں پرمیشن دیتے ہیں پھر جب وہ افسران تبدیل ہوتے ہیں تو انکی جگہ آنے والے اپنا قانون لیکر آتے ہیںاور توڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ کو ئی check & balance نہیں ہے”۔ جہاں 20 گھروں کے درمیا ن گلی تھی وہاں پورشنز کھڑے کر وادیئے، لوگ آباد ہوگئے ، اب 20 کی جگہ 40 بندے رہنے لگے۔ پبلک کی انویسٹمنٹ ہے، آپ ڈنڈا لیکر کھڑے ہو گئے۔

رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی اپنی ایسوسی ایشن کے قیام کے بارے میں بات کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کے” ویسے تو پورے کراچی میں الگ الگ ایسوسی ایشنز ہیں، جیسے نارتھ ناظم آباد ، سرجانی یا اور دوسری اس طرح کی چھوٹی ایسوسی ایشنز تو ہیں، مگر بارآور نہیں ہیں”۔ اسکے لیے ایک منظم ادارہ بنانا چاہیے اور پورے سندھ میں جہاں جہاں رئیلٹرز کام کر رہے ہیں ، انکی ایسوسی ایشن بنا کر رجسٹرڈ کریں۔ رجسٹریشن سے فائدہ ہوگا۔ دبئی میں حکومتی سطح پر رئیل اسٹیٹ ایجینسیا ں رجسٹرڈ ہوتی ہیں، انکی ٹریننگ ہوتی ہے، اور بغیر رجسٹریشن کو ئی ایجنٹ کام نہیں کر سکتا۔

مستقبل کے لائحہ عمل پر بہادر علی نے پراپرٹی پوسٹ نیوز کو بتایا کہ جب کوئی کسی فیلڈ کو اپنے پروفیشن کے طور پر جوائن کرتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔ اب جو سفر 2003 میں ایک اسٹیٹ اینجنٹ کی حیثیت شروع کیا تھا اسکی بنیاد پر آج ایک سوسائٹی کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے، اس کی تکمیل کے بعد انشاءاللہ بلڈرز اور ڈیولپرز کی طرز پر کام کرنے کا ارادہ ہے، اپنے پرائیوٹ پروجیکٹس لیکر آئینگے۔
“جب تک چراغ روشن نہ ہو جائے امید اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے”
Hope is Patience With the Lamp Lit.
پراپرٹی پوسٹ نیوز کے اجراء پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بہادر علی نے کہا کے : یہ احسن قدم ہے، اتنا جامع اور بھرپور نیوزپیپر میر ی نظروں سے نہیں گزرا۔ یہ پہلا اخبار ہے جو مکمل طور پر پراپرٹی اور اس سے متعلقہ چیزوں پر فوکس کر رہا ہے۔” ہماری دعائیں پراپرٹی پوسٹ نیوز کے ساتھ ہیں، پراپرٹی /رئیل اسٹیٹ کی آواز بننا چاہئیے۔ بلڈرز کی تو پھر بھی (آباد) رجسٹرڈ ہے، ہم لوگ بکھرے ہوئے ہیں، ہماری بھی آواز ہونی چاہیئے، جو رئیل اسٹیٹس کی ترجمان بنے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here