آل باب مدینہ سوسائٹی کے سیکرئٹری اعجاز شاہ سے پراپرٹی پوسٹ کا خصوصی انٹرویو

0
10

ال باب مدینہ کو آپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کے سیکرئٹری جناب اعجاز شاہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ سے کئی عرصے سے وابسطہ ہیں، حال ہی میں انہوںنے اپنے چندپارٹنر ز کے ساتھ مل کر احباب کے لئے رہائشی اسکیم کا آغاز کیا ہے ، اسی حوالے سے انکی سوسائٹی کا پہلا اجلاس عامہ23جولائی کو روک گارڈن میں منعقد ہوا اس موقع پر انہوں نے پراپرٹی پوسٹ کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کی جسکی تفصیل درجہ ذیل ہے۔

سوسائٹی شروع کرنے کا خیال کیسے آیا؟

جواب: ہمارا تعلق پراپرٹی انڈسٹری سے پرانا ہے،اس شعبہ میں ہم کئی عرصہ سے کام کررہے ہیں،مثال کے طورپر آپ چھوٹا کارخانہ لگاتے ہیں پھر ترقی کرتے کرتے اسے ایک بڑی فیکڑ ی میں تبدیل کردتیے ہیں کیونکہ آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہم بھی پراپرٹی کی انڈسٹری میں کام کررہے ہیں لہذااب باقاعدہ اپنی سوسائٹی لانچ کردی تاکہ اپنے احباب اور دوستوں کے لئے معیاری رہائش کا مناسب بندوسبت کیا جاسکے۔

ال باب مدینہ نام رکھنے کی کوئی خاص وجہ؟

اعجاز شاہ: جی کیا مدینہ سے بہتر رہائش کی کوئی اور جگہ ہوسکتی ہے، بابرکت نام ہے جو اس میں رہائش پذیر افراد کے لئے بھی باعث برکت ہوگا۔

ماضی میں پراپرٹی کے حوالے سے کیا تجزبہ رہا ہے؟

اعجاز شاہ: ہماری ایک کراچی اسٹیٹ کےنام سے اسکیم 33 مدارس کوآپریٹو سوسائٹی میں ایک چھوٹی سے فرم ہے جسکے سائے تلے ہم نے کراچی کے بہت سے پروجیکٹس پر کام کیا ،الحمداللہ کامیابی سے اور ایمانداری سےکام کیا۔

ممبران کو کب سے قبضہ دینے کا ارادہ ہے؟

اعجاز شاہ: دیکھیں سوسائٹی کے حوالے سے کچھ تقاضےہیں جنہیں پورا کرنا ہوتا ہے، سب سے پہلے ممبر سازی پھر زمین کی مد میں رقم مکمل کرنا اور اسکے بعد ڈیوپلپمنٹ کے کام وغیرہ یہ سارے امور ممبران کے تعاون سے پورے ہوتے ہیں،لہذ ممبران اگر ہمارے ساتھ تعاون کرتےرہے رہیں تو ہماری یہی کوشیش ہوگی کہ جلد از جلد انہیں قبضہ دیے دیں، میں  تمام ممبران سے گذارش کروں گا  کہ وہ اگر وقت پر اپنے واجبات ادا کرتے رہے تو انشاء قبضہ کی پوزیش تک جلد پہنچا جاسکتا ہے۔

لیز اور سیل ڈیڈ پر پابند ی کو کس نظر سے دیکھتیں ہیں؟

اعجاز شاہ: وہ ایک قانونی مسئلہ ہے یقیناً حکومت نے بلاوجہ پابندی عائد نہیں کی کچھ مسائل ہیں اور تھے جنکی روک تھا بھی ضروری ہے،دوسری بات اگر آپکی چیز خالص ہے تو وہ لیز ہو یا ناں لیز بات ایک ہی ہے، مسئلہ انکے لئے ہوتا ہے جو دونمبر کام کرتے ہیں، جبکہ میرا نظریہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو کنڑول کرنے کے لئے بھی کوئی خاص میکینک ازم ہونا چاہے۔

کیا یہ میکینزام انڈسڑی کی صورت میں ہوسکتا ہے؟

اعجاز شاہ : میں بذات خود اس کے حق میں ہوں اور کہتا ہوں کہ رئیل اسٹیٹ  کو باقاعدہ انڈسٹری بنائی جائے اور اسے کنٹرول بھی کیا جائے کیونکہ پراپرٹی کی قیمتیں جہاں پہچ گئی ہیں وہ عام آدمی کے دسترس سے باہر ہے اور اسکی وجہ لوگوں کے پاس موجود کالا پیسہ ہے جسے سفید کرنے کے لئے وہ پراپرٹی خریدتے ہیں اور قیمتیں آسمانوں کی طرف جاتی رہتی ہیں۔

بلیک منی(کالاپیسہ ) کو رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں آنے سے روکنے کے حوالے سے آپکی کوئی تجویز ہے؟

اعجاز شاہ: یہ کام حکومت کرسکتی ہے، جو انہوں نے کیا بھی ہے ٹیکس لگا کراور اسکے بعد اب سوال جواب بھی ہورہے ہیں کہ آیا یہ جو ٹیکس جمع کروانے کے پیسے آئے ہیں یہ کہاں سے آئے ہیں؟یہ بہت اہم چیز ہے اور اسکی وجہ سے بہت فرق پڑا ہے لہذا اسی نظام کو مزید درست کیا جائے ۔

پراپرٹی پوسٹ کے حوالے سے کیا کہیں گے؟

اعجاز شاہ: بہت اچھا کام ہے اور میں نے اندازہ لگایا ہے آپ درست سمت میں جارہے ہیں اور باقاعدہ پروفیشنل ٹیم کے ساتھ کام کرنا کامیابی کی ضمانت ہے ،بس اس کام (پراپرٹی مارکیٹ کی آواز بڑھانے ) کو مزید محنت و لگن سے کریں ہمارا تعاون آپکے ساتھ رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here