پاکستان میں آبی وسائل کی بدانتظامی اوربحران فرح ناز زاہدی جولائی 15, 2022

0
5

پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کو ’پانی کی شدید قلت‘ کا سامنا ہے۔ اور اگر تبدیلی نہ آئی تو اس میں اضافہ متوقع ہے۔ ملک میں پانی کے بحران کےموضوع پر دی تھرڈ پول نے ترقیاتی شعبے کے پیشہ ور عمر کریم کے ساتھ گفتگو کی۔

کریم 20 سال سے زائد عرصے سے آبپاشی اور پانی کے انتظام کے شعبے میں کام کر رہے ہیں اور سرکاری اور نجی شعبے کی تنظیموں کے لئے بطور مشیر خدمات انجام دیتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ وہ میڈیا پر باقاعدگی سے بطور مہمان مقرر اور مبصر بھی آتے ہیں۔

انہوں نے ڈیموں، پاکستان کے پانی اور توانائی کے بحران اور ڈیٹا اور پانی کے انتظام سے متعلق چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ انٹرویو میں طوالت اور وضاحت کے لئے ترمیم کی گئی ہے۔

کیا آپ پاکستان میں ڈیموں کے حوالے سے بحث کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
تمام صوبوں نے 2010 میں، دیامر بھاشا ڈیم پر اتفاق رائے کیا تھا (ایک ڈیم جو شمال مغربی پاکستان میں بنایا جا رہا ہے، جو مکمل ہونے پر دنیا کے بلند ترین ڈیموں میں سے ایک ہو گا)۔ تاہم اب اس پراجیکٹ پر کافی تنقید ہو رہی ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انہوں نے معاہدے پر دستخط کیوں کئے، اگر اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کا نتیجہ ہم بھگتیں گے اور ہماری زمینیں خشک ہو جائیں گی۔

کچھ لوگ تجویز کرتے ہیں کہ صوبوں میں چھوٹے ڈیم بنائے جائیں۔ براہ کرم انہیں چوٹیاری ریزروائر کا دورہ کرنے کی دعوت دیں، جو کہ سندھ میں نارا کینال پر 1996 میں بنایا گیا ایک چھوٹا ڈیم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت مددگار ہے اور جب بھی پانی کی کمی ہوتی ہے عمرکوٹ اور تھرپارکر کے نشیبی علاقوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ لیکن اس ڈیم کے قریب رہنے والے لوگ سیم، کھارا پن اور زمین کی کٹائی سے بری طرح متاثر ہیں۔ چھوٹے ڈیم کمیونٹیز کو برقرار رکھنے میں کارآمد ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں مناسب آپریشن اور دیکھ بھال کے علاوہ آبی ذخائر اور رساؤ کے تدارک کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

فرح ناز زاہدی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here