اہم ترینہفت روزہ اداریہ

نااہل حکمراں – بدقسمت کراچی

کراچی کو ایک نظر دیکھنے سے جو تاثر ابھرتا ہے وہ کہیں سے بھی خوش کن نہیں ہے ۔ ہر طرف بہتے گٹر، جا بجا کچرے کے ڈھیر اور گرد و غبار کے بادل ، یہ ہے کراچی کا نظارہ ۔ درختوں کی شاخوں پر پرندوں کے بجائے پلاسٹک کے شاپنگ بیگ لٹکے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ بلدیاتی حکومت کراچی کی صفائی ستھرائی میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے ۔ کچرے کے یہ ڈھیر اور گٹر کا بہتا پانی صرف اندرونی سڑکوں اور گلیوں کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس صورتحال کا مشاہدہ یونیورسٹی روڈ، صدراور شاہراہ فیصل جیسی اہم شاہراہوں پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اب اطلاع آئی ہے کہ تھوڑا بہت کچرا جو اٹھایا جاتا ہے وہ بھی مقررہ لینڈ فل سائیٹس پر نہیں پہنچایا جاتا بلکہ کراچی میں ہی سمندر، ندی نالوں اور خالی پلاٹوں میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ایک خبر کے مطابق کراچی میں چار سے چھ ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائیٹس تک پہنچانے کے بجائے ندی نالوں ، سمندر کے کنارے اور خالی پلاٹوں میں پھینکا جارہا ہے جو ماحول کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کا سبب بن رہا ہے ۔ خبر کے مطابق سندھ سالڈ ویسٹ منیجمینٹ بورڈ کی جانب سے حال ہی میں متعدد اداروں کے سربراہوں کے نام خط میں توجہ دلائی گئی ہے کہ ان کے ہاں جمع ہونے والا کچرا روزانہ کی بنیادپر شہر کی دونوں لینڈ فل سائیٹس گوند پاس اور جام چاکرو نہیں پہنچ رہا ۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈکے مطابق کراچی میں تقریبا 14 ٹن کچرا یومیہ پیدا ہوتا ہے جس میں صرف 8 ٹن کچرا ہی لینڈ فل سائیٹس تک پہنچ پاتا ہے ۔ کراچی میں حال میں ہی وارننگ جاری کی گئی ہے کہ ٹائیفائیڈ وبا کی صورت اختیار کرگیا ہے ۔ اس کے علاوہ دمہ بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ یہ سب صحت و صفائی کی ناگفتہ صورتحال کی بنا پر ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ کراچی میں کچرا اٹھانے کے لیے بجٹ مختص نہیں کیا جاتا ۔ ہر برس اس کے لیے بلدیاتی اداروں میں خطیر رقم مختص کی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک ادارہ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ تشکیل دیا گیا ہے ۔ سارا مسئلہ کرپٹ افسران کا ہے ۔ جہاں سے کچرا اٹھانے کا ٹھیکا چینی کمپنی کو دیا گیا ہے وہاں سے بھی کچرا نہیں اٹھایا جارہا ہے اور جہاں سے بلدیہ کو خود کچرا اٹھانا ہے ، وہاں سے بھی کچرا نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔ کاغذات میں جن ٹرکوں کو خراب دکھایا جاتا ہے اور ان کی مرمت کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں ، ان ٹرکوں کے ایندھن کے نام پر کرپشن کرلی جاتی ہے ۔ مشینی جھاڑو کے نام پر جو مشین لائی گئی ہے وہ صفائی کے بجائے الٹا گرد و غبار کے بادل اڑا رہی ہوتی ہے ۔ جس جگہ یہ مشینی جھاڑو کام کررہی ہوتی ہے ، وہاں پر گہرے گرد وغبار کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ بلدیاتی افسران نے اپنی کرپشن کی بنا پر پورے کراچی کو بیمار کردیا ہے ۔ پیپلزپارٹی صوبائی حکومت چلارہی ہے تو میئر اور ضلعی بلدیاتی چیئرمین متحدہ کے ہیں ۔ ان دونوں پارٹیوں کو کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام کے بجائے صرف اس بات کی فکر ہے کہ کس پروجیکٹ کے لیے کتنے کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور کتنا کمیشن مل سکتا ہے ۔ میئر کراچی وسیم اختر اختیارات کی کمی کا جو رونا روتے ہیں وہ اصل میں پروجیکٹ بلدیہ کے حوالے نہ کرنے کا ہے ۔ یونین کونسلوں اور ضلعی بلدیات کے پاس جو خاکروبوں اور کنڈی مینوں کی فوج ظفر موج ہے ، وہ کس کام کے لیے ہے اور اس سے کام لینے کے لیے کس اختیار کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح کچرا اٹھانے کے لیے جب بجٹ مختص ہے تو پھر یہ کچرا کیوں اٹھایا نہیں جارہا ۔ یہ کچرا یا تو آبادی کے درمیان واقع کچرا گھروں میں ہی جلادیا جاتا ہے۔یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے اور اس مسئلے کو ہنگامی طور پر اٹھانا چاہیے ۔

Tell to Others
14Shares

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker