اہم ترینہفت روزہ اداریہ

کراچی کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنائیں

پاکستانی معیشت کا انجن کہلانے والا شہر کراچی ایک طرف گندگی و غلاظت کے ڈھیروں، بارش اور سیوریج کے پانی کے تالابوں، مکھیوں اور مچھروں کی بہتات کے باعث انتظامیہ کی طویل عرصے سے جاری غفلت و بے حسی کی کہانی سناتا نظر آرہا ہے۔ دوسری جانب بلامنصوبہ بندی تعمیرات کے باعث آنے والے برسوں میں مجموعی اسٹرکچر کی تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کراچی شہر کے باسیوں کو جس کرب و اذیت، بیماریوں اور بعض مقامات پر کرنٹ لگنے اور دیواریں گرنے کے حادثات سے جانی و مالی نقصان کا سامنا ہوتا رہا ہے، اس کی نوعیت اتنی سنگین ہے جس پر زبانی وضاحتوں سے پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ شہریوں کا یہ تاثر یکسر بے وزن نہیں کہ کچھ عرصے سے نظر آنے والی سرگرمیاں حالات میں بہتری لانے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکیں جبکہ ایک نیا مسئلہ بلامنصوبہ بندی کی جانے والی تعمیرات کا ہے جن میں سے کئی تاحال نامکمل ہونے کے باوجود بارش کے پانی کے قدرتی بہائو کو روکنے کا ذریعہ بنی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان کا کوئی فوری انجینئرنگ حل نہ نکالا گیا تو ہر بارش میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کریں گی اور کئی کئی فٹ کھڑا ہونے والا پانی غریبوں کے گھروں میں داخل ہوتا رہے گا۔ اس باب میں جو سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں ان میں 15برس کے دوران شہر میں کی جانے والی تعمیرات کا جائزہ لیا جانا اور یہ دیکھنا بھی شامل ہے کہ کہاں کہاں پانی کی نکاسی کے راستے بند یا محدود کر دیئے گئے ہیں۔ بلدیاتی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے، سیوریج اور بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے جامع پلان بنانے کی ضرورت اس قدر کھل کر سامنے آچکی ہے کہ اب اس سے صرف نظر کی گنجائش نہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وفاقی، صوبائی اور شہری انتظامیہ کے نمائندے سر جوڑ کر بیٹھیں اور مشترکہ لائحہ عمل کے تحت معاملات بہتر بنانے کیلئے کام کریں۔ یہ بات کسی طور نظر انداز نہیں کی جانا چاہئے کہ بڑے شہر چہروں کی مانند ملکوں کے تعارف کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ تعارف صفائی اور خوبصورتی کے ذریعے ہونا چاہئے۔

ہمارا Youtube Channel سبسکرائب کریں

مزید خبروں کیلئے ہمارا Facebook Page وزٹ کریں

 

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker