اہم ترینبین الاقوامی پراپرٹی

یو اے ای ریاستیں سونے اور پراپرٹی مارکیٹس میں منی لانڈرنگ کا خاتمہ کریں – FATF

برسلز: دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کے خلاف کام کرنے والی بین الاقوامی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF نے متحدہ عرب امارات سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں سونے اور پراپرٹی کی منڈیوں میں موجود مالیاتی سوراخوں کو بند کرے۔

اس حوالے سے گذشتہ روز پیرس سے جاری اعلامیے کے مطابق FATF اور مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس MENAFATF نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ ریویو جاری کیا ہے۔

جائزہ رپورٹ میں متحدہ عرب امارات سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی رقوم کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پیشہ ورانہ استعداد رکھنے والے بین الاقوامی منی لانڈرنگ کے نظام کو آگے بڑھائیں۔ منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ باضابطہ تعاون پر تیزی سے کام کریں۔ یہاں وجود میں آنے والی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے کو زیادہ شفاف بنایا جائے اور سونے اور پراپرٹی کی منڈیوں میں موجود مالیاتی سوراخوں کو بند کیا جائے۔

اس جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی مالی اعانت سے پیدا ہونے والے خطرات کا سامنا ہے اور جسے اس کی اپنی حالیہ ترتیب دی جانے والی قومی خطرات کی تشخیص کی رپورٹ میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

ریویو میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات تیل، ہیرے اور سونے کی برآمدات کی عالمی منڈی کے علاوہ وسیع مالی، معاشی ،کارپوریٹ اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے جغرافیائی محل وقوع، مختلف تنازعات کے علاقوں سے قربت اور اس کی اپنی حدود میں واقع 7 مختلف امارات کی موجودگی ، 2 مالیاتی آزاد زون اور 29 تجارتی فری زون کے باعث اس کے جرم اور دہشت گردی سے وابستہ فنڈز کو راغب کرنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ FATF نے یو اے ای کے 39 مختلف کمپنی رجسٹری نظام پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

اس جائزہ رپورٹ میں اتھارٹیز کے اس حوالے سے کردار پر بھی انگشت نمائی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی مالی اعانت، دھوکہ دہی اور دیگر جرائم کی تحقیقات کے دوران حکام کو وسیع پیمانے پر مالی معلومات تک حاصل رسائی ان عوامل کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں تو مثبت نتائج حاصل کئے ہیں لیکن اس کی جانب سے خاص طور پر دبئی میں منی لانڈرنگ کے خلاف محدود قانونی چارہ جوئی تشویش کا باعث ہے ۔ اسی طرح حکام باضابط بین الاقوامی قانونی امداد و تعاون کا خاطر خواہ استعمال بھی نہیں کرتے۔

اس جائزہ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ عرصے میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے قومی تعاون کو بہتر کرنے کیلئے متعدد کمیٹیاں تشکیل دیں اور اپنے قانونی فریم ورک کو مضبوط بنایا ہے لیکن دنیا کے ایک اہم مالیاتی سینٹر اور تجارتی مرکز کے طور پر وہ مجرمانہ مالی بہائو کو موثر انداز میں روکنے کیلئے فوری کارروائی کرے۔

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker