اہم تریننقطہ نظر

کراچی میں ایک نئے ضلع کا قیام, سیاسی یا انتظامی؟

تحریر: عامر خان

کراچی: سندھ کابینہ کی جانب سے کراچی میں ایک نئے ضلع کے قیام کے فیصلے نے شہر کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔

صوبائی کابینہ نے اپنے اجلاس میں ضلع غربی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ضلع کیماڑی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ ضلع میں چار سب ڈویژن سائٹ، بلدیہ، ہاربر اور ماڑی پور شامل ہوں گے۔ پیپلزپارٹی نئے ضلع کے قیام کو انتظامی فیصلہ قرار دے رہی ہے۔

اس ضمن میں پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ کراچی میں ساتویں ضلع پر اعتراض کرنے والے تعصب پھیلا رہے ہیں کیونکہ جب آمر پرویز مشرف کے دور میں کراچی کو 18 ٹاؤنز میں تقسیم کیا گیا تو اس وقت ایم کیو ایم اور ان کے آج کے دھڑے سب خوشی میں ڈھول بجا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 45 لاکھ آبادی پر مشتمل علاقے کو ضلع بنایا جارہا ہے اس پر لسانیت کی باتیں کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ادھر ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف، پاک سرزمین پارٹی، مہاجر قومی موومنٹ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے کراچی میں نئے ضلع کے قیام کے فیصلے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بچاس سال کے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب صوبہ کے بغیر گزارا نہیں اور اس کی جدوجہد کا آغا ز ہو گیا ہے۔ سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی ضلع کی تعمیر کو کراچی کی تقسیم سے تعبیر کرتے ہوئے اس فیصلے کو پیپلزپارٹی کی ”تقسیم کرو اور لڑاؤ کی پالیسی ” قرار دیا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب پر نئے ضلع کے قیام کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ پاک سر زمین پارٹی نہ سندھ کی دھرتی ماں کو تقسیم ہونے دے گی اور نہ ہی اس ماں کے دل کراچی کو تقسیم ہونے دے گی۔پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کراچی کو مزید تقسیم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے ضلع کیماڑی کے قیام کے فیصلے کو سندھ ہائی کور ٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی کو ڈپٹی کمشنر تعینات کرنا منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی جانب سے عدالت میں دائر پٹیشن کے اس اقدام کو وزیراعظم عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

سیاسی تجزیہ کار پیپلزپارٹی کی جانب سے نئے ضلع کے قیام کے فیصلے کواس کی ٹائمنگ کے لحاظ ایک سوچا سمجھا اقدام قرار دے رہے ہیں۔پیپلزپارٹی نظریں آنے والے بلدیات انتخابات پر ہیں اور وہ اس مرتبہ کراچی سے اپنا میئر لانے کی کوششوں میں ہے۔

یہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتا ہے لیکن یہاں پیپلزپارٹی کو ایک بات پر توجہ دینا ہوگی کہ جس طرح سندھ کی تقسیم کے حوالے سے اس ایک واضح موقف ہے اسی طرح ایم کیوایم پاکستان اور سندھ کے شہری علاقوں کی دیگر نمائندہ جماعتیں شہر میں لسانی بنیادوں پر نئے ضلع کے قیام کو اگر اسے شہر کی تقسیم سے تعبیر کررہی ہیں تو ان کو غلط نہیں کہا جاسکتا ہے۔

پیپلزپارٹی لاکھ کہے کہ اس فیصلے پر لسانیت کا عنصر کاربند نہیں ہے لیکن اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔جن سب ڈویڑن کو اس مجوزہ ضلع میں شامل کیا گیا ہے وہ بنیاد ی طور پر پیپلزپارٹی کے مضبوط حلقہ انتخاب ہیں۔اس طرح پیپلزپارٹی مزید ایک ضلع میں اپنا چیئرمین لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

اس فیصلے سے کراچی کے شہریوں کو کوئی فائدہ پہنچتا نظر نہیں آرہا ہے۔تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو اس طرح کے فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے،جس سے شہر میں لسانی بنیادوں پر کشیدگی پیدا ہونے کے امکانات ہوں۔اگر پیپلزپارٹی انتظامی بنیادوں پر اضلاع کے قیام کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے ہر طقبے میں مقبولیت ملے گی۔اگر ضلع غربی بڑا رقبہ اور علاقہ رکھتا ہے تو ضلع وسطی بھی کوئی چھوٹا ضلع نہیں ہے۔وہاں بھی دو اضلاع قائم کیے جاسکتے ہیں۔ان تجزیہ کاروں کے مطابق جس طرح مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت سامنے آئی ہے پیپلزپارٹی کو اس فیصلے کو عملی شکل دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی حکومتوں کی29 اگست 2020 کو ختم ہورہی ہے۔سندھ کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ جب کونسلز نے اپنا پہلا اجلاس 30 اگست 2016 کو طلب کیا تھا جس میں میئرز، ڈپٹی میئرز، چیئر مینز اور نائب چیئرمینوں سے حلف لیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو مزید تقویت دینے کیلئے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ (ایس ایل جی اے)-2013 میں ترمیم کی جائے گی۔ لہذا، کابینہ کی منظوری سے انہوں نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر بلدیات سید ناصر شاہ، مشیر ورکس نثار کھوڑو، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات پیش کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ تمام جماعتوں / اسٹیک ہولڈرز سے ترامیم / سفارشات مرتب کرنے کیلئے مشاورت کریں۔ کابینہ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ 29 اگست 2020 کو تمام مقامی کونسلوں کی چار سال کی مدت پوری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ کابینہ نے لوکل کونسلز کی کارکردگی کو رواں رکھنے کیلئے ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کرنے اور وزیر اعلیٰ سندھ سے بعد ازاں منظوری لینے کا اختیار دیا۔

میئر کراچی وسیم اختر کا اپنی الوداعی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ 4 سال میں کئی عناصر کراچی کی ترقی میں رکاوٹ بنے رہے،مایوس صورت حال میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ میں 3 کروڑ عوام کا مینڈیٹ لے کر آیا ہوں، وزیراعلی سندھ سے زیادہ مینڈیٹ میرے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جانے والی بلدیاتی حکومتیں عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہیں۔زندگی کے کسی شعبے میں ان حکومتوں نے کوئی ایسے اثرات نہیں چھوڑے کہ عوام ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ چار سال کراچی کی بلدیاتی تاریخ کے حوالے سے بدترین سال تھے۔

میئر کراچی اپنے پورے دور میں اختیارات کے نہ ہونے کا رونا روتے رہے اور شہر کی حالت بد سے بدترین ہوتی رہی۔کراچی کے 6 میں سے 4اضلاع جن میں وسطی،شرقی،غربی اور کورنگی شامل ہیں ان میں ایم کیو ایم پاکستان کے ضلعی چیئرمینز ہیں جبکہ ضلع جنوبی،ملیراور ضلعی  کونسل میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔کراچی کے ان تمام اضلاع میں بلدیاتی سہولتوں کا فقدان رہا اور شہریوں کو کوئی بھی ریلیف نہیں مل پایا۔

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اختیارات نہ ہونے کا شکوہ بجا لیکن اس نظام کے تحت جو اختیارات حاصل تھے منتخب نمائندوں نے ان سے بھی استفادہ نہیں کیا۔

بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کا عمل انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔تمام جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ کراچی میں کسی ایسے ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا جائے جو غیر جانبدار ہو اور اس کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی نہ ہو۔ایڈمنسٹریٹر کی تقرری صوبائی حکومت کا اختیار ہے بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کے ایک اجلاس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ بلدیاتی اداروں میں بیوروکریٹس، سیاسی اور سول سوسائٹی کے اچھی ساکھ کے حامل افراد کوایڈمنسٹریٹرزمقررکیا جائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کراچی کے لیے کس شخصیت کا انتخاب کرتی ہے۔

جہاں تک آئندہ بلدیاتی انتخابات کی بات ہے تو فی الوقت کوئی بھی جماعت یہ دعویٰ نہیں کرسکتی ہے وہ ان انتخابات میں کامیابی کے لیے فیورٹ ہے۔شہر قائد کے عوام پہلے ہی ان جماعتوں سے مایوس ہیں۔شہریوں کا اعتماد جیتنے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سمیت شہر کی اسٹیک ہولڈرز جماعتوں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی سے کوئی بڑا سرپرائز بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔اس وقت پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ تمام بلدیاتی اداروں میں ان کے حمایت یافت ایڈمنسٹریٹرز تعینات ہوں۔

اپیکس کمیٹی نے سندھ میں مدارس تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اب مدارس محکمہ تعلیم رجسٹر کرے گی۔صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس 18 ماہ بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں اعلی سول وعسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے سدباب، قانون سازی اور سیف سٹی منصوبے، حالیہ سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات سمیت کراچی کی تعمیر نو سے متعلق گزشتہ فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔

شہر قائد کے باسیوں کے لیے ایک مرتبہ پھر باران رحمت صوبائی و بلدیاتی اداروں کی ناقص کارکردگی کے سبب زحمت بن گئی ہے۔بارشوں کا سلسلہ تاحال وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ مون سون کے حالیہ اسپیل میں ہونے والی بارشوں نے شہر کا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا اور عروس البلاد کے کئی علاقے کسی سیلاب زدہ بستی کا منظر پیش کرنے لگا۔بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں کئی اافراد جاں بحق ہوگئے۔

صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے رین ایمرجنسی کے دعوے دھر ے کے دھرے رہ گئے اور شہری حسرت و یاس کی تصویر بنے تباہی کا مناظر دیکھتے رہے۔کے الیکٹرک کی نااہلی ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آئی اور پہلی بوند پڑتے ہی شہر کا بڑا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ اندرون سندھ میں شدید بارشوں سے نظام زندگی متاثر ہوا، ٹرینوں کی آمدو رفت معطل ہو گئی ۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں اور ریسکیو اداروں کے رضا کاروں نے امدادی کارروائیاں کیں جبکہ ان علاقوں میں حکومت کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آیا۔

ماہ محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی سمیت سندھ بھر میں نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کا سلسلہ شرو ع ہوگیا ہے۔ حکومت سندھ نے محرم الحرام کے حوالے سے خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے عزاداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایس او پیز عملدرآمد کرتے ہوئے مجالس اور جلوسوں میں شریک ہوں۔

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker