اہم ترینبلدیاتی خبریں

کراچی کے 28 رجسٹرار دفاتر 6 اہم شخصیات کی گرفت میں، ماہانہ کروڑوں روپے کی کمائی

کراچی کے 28 رجسٹرار دفاتر سے ماہانہ 11 کروڑ سے زائد جمع کئے جاتے ہیں اور یہ رقم نیچے سے اوپر تک تقسیم ہوتی ہے رشوت کی رقم جمع کرنے کے 6 اہم کردار ہیں جن کے حوالے گنتی کے رجسٹرار کئے گئے ہیں ان کے دفاتر سے روزانہ کی بنیاد پر اور مخصوص بڑی یا ہائی رائز عمارات کی لیز کے پیسے الگ لئے جاتے ہیں جبکہ نارتھ ناظم آباد گلبرگ جمشید ٹاؤن کے دونوں ٹاؤنز صدر ، نارتھ وینیو کراچی ، گلش اقبال میں رجسٹرار کی سب سے بڑی کمائی کا ذریعہ غیرقانونی پورشنز اورعمارات بتائی جاتی ہیں اس طرح اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ جن ٹاؤنز کا ٹھیکہ جسے دیا جاتا ہے ان دفاتر میں رجسٹرار اور دیگرعملہ کی تقرری بھی اسی ٹھیکیدار کی پسند سے کی جاتی ہے پھر ٹھیکیدار ہر رجسٹرار آفس میں ایک نجی ایجنٹ بھی رکھتا ہے جو براہ راست ٹھیکیدار کو جوابدہ ہوتا ہےاور ٹھیکیدار کے مفادات کا محافظ ہونے کی وجہ سے وہ رجسٹرار سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے اس طرح کراچی میں رجسٹرار ونگ کا نظام چلایا جارہا ہے پہلے اس نظام کی کرتا دھرتا ”ادٌی“ ہوتی تھیں جبکہ وزارت مخدوم کے کھاتے میں ہونے کی وجہ سے مخدوم خاندان کا ہی کوئی رکن اسمبلی وزیر ہوتا تھا پھراتنی بڑی رقم میں حصہ نہ ملنے پر دو سال قبل مخدوم بھڑک اٹھے اور بغاوت کردی تھی جس پر یہ وزارت اوپر کی پوری آمدنی کے ساتھ ان کے حوالے کردی گئی تھی یوں آج بھی وہی اس وزارت کو چلارہے ہیں
واضع رہے کہ رجسٹریشن ونگ محکمہ ریونیو کا ایک کماؤپوت ونگ ہے اس وقت کراچی کے ٹوٹل رجسٹریشن ونگ کے 28 ٹاؤن ہیں جن سے کروڑوں روپےکی بلیک منی جمع ہوتی ہے محکمہ ریونیو کے وزیر آج کل مخدوم خاندان کے ہونہار فرزند مخدوم محبوب الزاماں ہیں 16 ٹاؤن کے ٹھیکیدار شبیرعلی شاہ ہیں جبکہ دیگر ٹاؤنز کے معاملات ان کے عزیز ماما علی حسن ہنگورجو دیکھتے ہیں شبیر علی شاہ کے پاس جو 16 ٹاؤنز ہیں ان میں ڈیفنس بھی شامل ہے جو انتہائی مہنگی جائیداد کا مرکز ہونے کے ساتھ ان پر سپریم کورٹ کے واضع احکامات موجود ہیں کہ سب لیز پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاریٹی کا کمپلیشن سرٹیفکٹ ہونا لازمی ہے مگر یہ رجسٹرار اس کے بغیر ہی لیز کردیتے ہیں دو بڑے ٹھیکیداروں کے پیٹی ٹھیکدار بھی ہیں جمشید ٹاؤن 1 جمشید ٹاؤن 2 صدر ٹاون 1 اور 2 کو وجاہت علی شاہ دیکھتے ہیں اور گلشن ٹاؤن 1اور2 نیو ٹاؤن 3 نیوکراچی، کورنگی ٹاؤن، لیاری ٹاؤن کو فہد دارا دیکھتے ہیں لیاقت آباد.اورنگی ٹاؤن سائٹ ٹاؤن کوٹری ٹاؤن لطیف آباد حیدرآباد کو ابولحسن دیکھتے ہیں یہ تینوں بڑے ٹھیکیداروں کے نجی کارندے ہیں ان کے قبضہ میں 16 ٹاؤنز ہیں اس طرح دولت کی دیوی ان گنتی کے ہاتھوں میں ہے جنہیں کوئی پوچھ سکتا ہےنہ ہٹاسکتا ہے۔
Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker