اہم ترینبلدیاتی خبریں

شہرقائد کی تعمیر و ترقی کے لیے صنعتکار اور بلدیہ عظمیٰ کراچی مل کر کام کرنے کے لیے تیار

کراچی: شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے صنعتکار اور بلدیہ عظمیٰ کراچی مل کر کام کرنے کے لیے تیار۔ شہر کی سڑکیں، فٹ پاتھ ، چورنگیاں، سیوریج ٹریٹمنٹ نظام اور دیگر ترقیاتی کاموں میں تاجر مل کر کام کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کروڑوں روپے کے ترقیاتی پیکج سے شہرقائد کو خوبصورت بنائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز کے ساتھ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد کے ساتھ اہم اجلاس کیا۔ کاٹی کے صنعتکار رہنماوں اور ایڈمنسٹریٹر کراچی نے باہمی رضا مندی ظاہر کردی ، ابتداء کورنگی صنعتی علاقہ سے کیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ جو ٹیکس ایس بی سی اے کو وصول کرنے کا اختیار دیا گیا تھا ، میں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات میں درخواست کی ہے کہ یہ کے ایم سی کا حق ہے اسے کے ایم سی کے حوالے کیا جائے۔
کے ایم سی کے مسائل پر وزیر اعلیٰ نے ہر 15 روز بعداپنی صدارت میں میٹنگ کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس طرح کے ایم سی کے اپنے مسائل اور شہر کے مسائل جلد حل ہونے لگیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کے ایم سی ماہ نومبر اور دسمبر کی تنخواہیں ادا نہیں کرسکا تھا تاہم ہماری درخواست پر وزیر اعلیٰ سندھ نے فنڈز فراہم کیے ہیں جس سے تنخواہیں اب وقت پر ادا کر رہے ہیں، کے ایم سی شہر کے مسائل کے حل کے لیے اب پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعہ کافی مسائل حل کرنے کی طرف جا چکی ہے۔
اس حوالے سے ہم نے لنک روڈ پر ایک قبرستان سیلانی ویلفیئر کے حوالے کیا گیا ہے ، جبکہ سرجانی ٹاون میں مختص قبرستان کی اراضی جعفریہ ڈیزاسٹر میجمینٹ ( جے ڈی ای) کے حوالے کیا گیا ہے، ایم او یو سائن ہو گئے ہیں ، جے ڈی سے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قبرستان میں تدفین کا ایک پیسہ بھی وصول نہیں کریں گے۔
اس موقعے پر کاٹی کے چیئرمین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کورنگی صنعتی علاقے کی تمام چورنگیوں کو پرایویٹ پارٹنر شپ میں خوبصورت مونومنٹ بنائے تھے ، مگر افسوس کے ایم سی کے عملے نے ہماری کمپنیوں کے نام لاتیں مار مار کر اتار دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کاٹی کے صنعتکار کے ایم سی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں ، سابق چیئر مین کاٹی زاہد سعید نے کہاکہ ہمارے پاس ملیر ندی کو سرسبز بنانے کا مصوبہ موجود ہے ، جس سے علاقے کی آب و ہوا بہتر ہوگی ، اور ہم سستی تفریح کے لیے یہاں پھلوں کے درخت لگانے کا منصوبہ تیار کر چکے ہیں۔

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker