اہم ترینۤپراپرٹی پوسٹ | پراپرٹی انٹرویو

بجٹ 2021 رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن،کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی حقیقت

پراپرٹی پوسٹ نیوز (میزبان علی احسن)کی بجٹ 2021-2022اور حالیہ دودنوں میں کراچی میں ہونے والے انکروجمنٹ کے حوالے سے پنجوانی انسٹیٹوٹ آف بزنس اسڈیز اینڈ ٹیکنولوجی کے سی او اماناللہ پنجوانی سے تفصیلی گفتگو۔

پراپرٹی پوسٹ نیوز (میزبان علی احسن)کی بجٹ 2021-2022اور حالیہ دودنوں میں کراچی میں ہونے والے انکروجمنٹ کے حوالے سے پنجوانی انسٹیٹوٹ آف بزنس اسڈیز اینڈ ٹیکنولوجی کے سی او اماناللہ پنجوانی سے تفصیلی گفتگو۔
پنجوانی انسٹو ٹیوٹ کا مختصر تعارف۔پنجوانی انسٹوٹوٹ بزنس اینڈ ٹیکونولوجی پاکستان کا وہ واحد ادارہ ہے جو رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد کی رہنمائی کرتا ہے اور ان کو باقعدہ ٹرینگ دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے شعبے میں مکمل مہارت حاصل کر سکے اب تک سینکڑوں افراد نے اس ادرے سے استفادہ حاصل کر کے اپنے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
سوال۔سر حالیہ بجٹ 2021-2022کے حوالے سے آپ کیا رائے ہے
جواب۔ دیکھیں موجودہ کا اچھا اقدام ہے کہ اس بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دیا ہے۔پاکستان میں اس وقت ایک کڑوڑ گھروں کی قلت ہے اس وقت پاکستان میں اندازے کے مطابق ساڑھے تین لاکھ گھر بن رہا ہے اور اس میں ۷لکھ گھروں کا اضافہ ہورہا ہے اور قلت کا سامنا ہے اس وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور عام آدمی کی دسترس سے باہر ہورہا ہے نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ کہ اس میں اتنی سہولیات دی گئی ہے اپ عام ادمی جن کی سیلری50ہزار سے کم ہے وہ بھی سوچ سکتا ہے کہ وہ بھی اپنا گھر بنائیں اس حکومت کا یہ ہدف ہے کہ وہ 2023تک دس لکھ گھر بنائیں مجھے امید ہے کہ حکومت اس ہدف کو پورا کرلے گی۔عام طور پر بینک سے قرضہ لیے تو اس مارک اپ ریشو ۱۸ سے ۲۰ فیصد ہے اور اس میں صرف ۵سے ۶ فیصد مارک اپ دینا ہے اور حکومتی منصوبے کے نؤمطابق لوگوں کی انکم (وسائل)کے مطابق یہ سہولت دینا ہے اگر اس پر ایمانداری سے عمل ہوا اور لوگوں نے صحیح استفادہ حاصل کر لیا تو میں سمجھتا ہوں کہ رئیل اسٹیٹ صنعت کا رخ تبدیل کر دیگا۔
سوال۔سر ماضی میں بھی بہت سے حکومتوں اس قسم کے وعدے کئے اور اس حکومت کا بھی یہی دعوہ ہے آپ اس کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔
جواب۔دیکھیں بنیادطور پر ہر حکومت کا یہی نعرہ رہا ہے روٹی کپڑا اور مکان چونکہ یہ لوگوں کی ضروریات ہے اس لیے ہر دور میں یہ نعرہ رہا ہے بھٹو صاحب نے نوازشریف نے بھی کمپنی بنائی ان کا بھی یہی مقصد تھا
بنیادی طور پر اس کا خاص فائدہ یہ کہ بینکوں کی طوف سے اسٹیٹ بینک اف پاکستان کی طرف سے عام شہری کو ریلوف دیا گیا ہے یعنی وہ پانچ سے چھے فیصد ایڈانس پے کر کے باقی ۱۵ سال کے اندر اداکر سکتا ہے یہ بہت بڑا ریلیف ہے اس وقت کنسٹکشن کی قیمت بڑہوئی ہے عام ادمی سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ وہ گھر بنائیں اس اسکیم سے امید ہے کہ عوام کو کافی ریلف ملے گا۔ایک اہم بات کرنا چاہوں گا کہ ابھی ۳۰ جون کو اس پالیسی کو ختم کررہا ہے میں حکومت سے گزاش کرتا ہوں یہ ابھی ختم نہیں کریں ابھی عام افراد تک جو دیہات گاؤں میں ہے ان تک خبر نہیں پہنچی ہیں۔اس کو ختم نہیں کریں بلکہ اس کو مزید اگے بڑھائیں اور نئے پروجیکٹ اس میں شامل کرے اگر اس پر مکمل عمل کرتے ہے تو مزید دس سے پندہ سالوں میں پراپرٹی کی ریٹ گر سکتی ہے۔
سوال۔سر پراپرٹی کی مارکیٹ پر اپ کی گہری نظر ہے سر بتائے حال ہی میں کراچی میں سپریم کوڑٹ کے حکم پر انکروجمنٹ کا سلسلہ جاری ہوا ہے جس میں کچھ عمارت کو گرادی اور کچھ گرانے کا حکم جاری ہواہوا ہے جس پہ ابھی عمل درامد ہونا تو آپ اس کو کس طرح سے دیکھتے ہے۔
جواب۔جی یہ بڑی افسوس ناک بات ہے ایسا نہیں ہوناچاہیے بنیادی طور پر ہماری عوام کو اس چیز کی اگاہی نہیں ہے عام طور پر عام ادمی این اوسی دیکھتا ہے مختلف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اور وہاں بک کرا دیتا ہے۔جو بنیادی چیز ہوتی وہ زمین ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا ہمارے پاس ادارے جس طرح کام کررہے ہیں وہ انتہائی پیچیدہ ہے صرف کراچی میں ۱۴ لینڈ گیونگ اتھارٹی ہے اور ہر کسی کے اپنی اپنی بائی لاز ہے جس کے مبطابق وہ کام کرتے ہے ایک تو کرپشن کا نہ روکنے والا سلسلہ ہے جو ان غیر قانونی پروجیکٹ کو قانون میں تبدیل کردیتا ہے۔ایک عام آدمی کو پتہ ہے کہ لیز ہے سب لیز ہے تو یہ چیز کلیر ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے میں عوام کو اس چاینل کے توسط سے یہ کہنا چاہوں گاایک این اوسی کو نہ دیکھے بلکہ اصل زمین کی بنیاد دیکھیں یہ جو حالیہ حادثہ ہوا س سپریم کورٹ کا فیصلہ ایا یہ تو آج سے تین چار سال پہلے فیصلہ ہوچکا تھا کہ سرکاری زمین جن کی لیز ختم ہو چکی ہے وہ خود بہ خود حکومت کے پاس چلی جائیگی الادین پارک اور اس جیسے دیگر پروجیکٹ کی زمین سرکاری ہے اور اسے لیز پر لی ہوئی ہے جب لیز کا دورانیہ ختم ہوجائیگی تو قانون حکومت کے پاس چلی جائیگی عوام کو اس چیز کی اگاہی نہیں اس لیے اس طرح کے پروجیکٹ کی طرف چلی جاتی ہے آپ دیکھیں کہ جو پروجیکٹ ابھی توٹے ہے ان کے پاس لیرز بھی تھی لے اوٹ پلان بھی تھی اور این او سی بھی موجود تھی لیکن لیز کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد ان کو توڑ دیا گیا اسی لیے ہم اپنے کورس میں ان تما م معلومات کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ رئیل سیکڑ میں کام کرنے والے حضرات اس دوکھہ دہی فراٹ سے بچ سکے۔ایک اور اہم مسئلہ پورشن کا ہے پورشن کا سیل پرچیز ہورہا ہے یہ سراسر غیر قانونی ہے ہم نے یہ بات کئی فارم پہ کرچکی ہے۔لیکن اس کے باوجود لوگ خرید رہے لیکن اگے ان کو مشکلات کا سامنا ہوگا اور کچھ پورشن کو توڑا بھی گیا۔میری عوام سے یہ گزاش ہے کہ اس کے لیگل معاملات کو دیکھا جائے بنیادی طور پر زمین کے ڈوکومنٹس سیکھیں بنیادی طور پر کو زمین دینے کا اختیار ہے وہ بورڈ اف ریونیو کے پاس ہے وہ کی این او سی دیکھیں پھر باقی این او سی دیکھیں تاکہ اب کسی قسم کی دوکھہ دہی سے بچ سکے۔
سوال۔پاکستان میں خاص طور پر کراچی میں بہت سارے بیلڈر اس طرح کے غیر قانونی پروجیکٹ کرتے لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی اس کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں۔
جواب۔جی آپ کا کافی ااچھا سوال ہے دیکھیں جس شہر میں ۱۴ اتھارتی ہوگی اور سب کی اسٹیٹس مختلف ہوگی تو اس طرح کے مسائل تو ہوگی میں آپ کو اس کی مثال دیتا ہوں گوٹھ کی الگ بائی لاز ہے کچے کی الگ بائی لاز ہے کے ڈے اے کی الگ بائی لاز ہے جب اس شہر میں اس طرح کی صورت حال ہوگی تو مسائل تو ہوگی۔
اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے وہ ہے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی اس حکومت کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ یہ بل قومی اسمبلی سینٹ سے بھی منظور ہوچکا ہے اگر ایک ہی جگہ سے اپرول ہو تو ان مسائل میں کافی حد تک کمی اسکتی ہے باقی ملکوں میں اس طرح کے مثال موجود ہے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے لنک پہ کلک کریں

https://www.youtube.com/watch?v=8rBZNUKaaAE&t=30s

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker