اہم ترینسی پیک

وسط ایشیائی ممالک سمندر نہ ہونے کے باعث گوادر کے زریعے اپنی تجارت کرنا چاہتے ہیں – وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے گوادر کو سینٹرل ایشیا کے ممالک سے بذریعہ سڑک جوڑا جارہا ہے اور ان کے پاس سمندر نہ ہونے کے باعث یہ ہماری بندرگاہ سے اپنی تجارت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

گوادر میں مختلف منصوبوں کے افتتاحی تقریب سے خطاب کے موقع پر عمران خان نے کہا کہ ہمارے ان وسط ایشیائی ممالک سے معاہدے ہوچکے ہیں اور وہ عنقریب ان ممالک کا دورہ بھی کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ کو سینٹرل ایشیا سے ملانے کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے ہم افغانستان کے تمام فریقین سمیت ہمسایہ ممالک سے بات کر کے کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان میں خانہ جنگی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کا پہلا صنعتی زون چھوٹا تھا اس لیے اب اس کے فیز 2 کا آغاز کیا جارہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 کے دہائی میں پاکستان ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے چند ممالک میں شامل تھا مگر پھر ہم نے غلطیاں کیں جس کی وجہ سے ہمیں مشکل صورتحال سے گزرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ گوادر تجارت کا اہم مرکز بن رہا ہے اور بلوچستان میں پہلے سے بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔

عمران خان کہنا تھا کہ گوادر ایئرپورٹ سے یہ شہر دنیا سے منسلک ہوجائے گا اور اس کے علاوہ وہاں سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مختلف منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم بار بار آئی ایم ایف کے پاس گئے مگر کسی نے نہیں سوچا کہ ملک کی برآمدات بڑھانے پر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیں گے جو ملک کی ایکسپورٹ بڑھانے میں مددگار ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے اور ہم چین کی دوستی اور اپنے جغرافیے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا شمار ملک کے پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے اس لیے صوبے کی ترقی کے لیے 730 ارب روپے کا تاریخی پیکج دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کے لوگوں کے لیے وہاں ٹیکنیکل کالج بھی زیرتعمیر ہے۔

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker