اہم ترینپاکستان پراپرٹی

تعمیراتی مٹیریل کی قیمتیں نہیں رکی تو سستے مکانات کی حکومتی اسکیم متاثر ہوسکتی ہے

تعمیراتی شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے سریا، سیمنٹ، سمیت دیگر تعمیراتی میٹریل کی بڑھتی قیمتوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے تو سستے مکانات کی حکومتی اسکیم متاثر ہوسکتی ہے۔

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے اپنے انتخابی منشور کے تحت نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت کم آمدن طبقے کو کم لاگت کے 50 لاکھ مکانات دینے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ حکومت کے کم آمدن طبقے کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کے لیے اعلان کردہ اس اسکیم کو سراہا جارہا ہے۔ اس اسکیم سے نہ صرف وہ لوگ جو گھر خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ماہانہ تقریباً کرائے کے مساوی یعنی 6600 روپے بینک کو ادائیگی کرکے اپنے ذاتی گھر کے مالک بن سکیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں تعمیراتی اور اس سے منسلک دیگر شعبوں اور بینکنگ انڈسٹری کو بھی فروغ ملنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔

تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے سریا، سیمنٹ اور دیگر میٹریل کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس نے بلڈرز اینڈ ڈیولپرزکو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور نائب صدر فیڈریشن چیمبر آف کامرس عارف جیوا کا کہنا ہے کہ جنوری سے اب تک سریے کی فی ٹن قیمت میں 37ہزار روپے کا اضافہ ہوچکا ہے، جنوری میں ایک ٹن سریا ایک لاکھ 20 ہزار روپے کا تھا لیکن اب اس کی قیمت ایک لاکھ 75 ہزار 500 روپے ہوچکی ہے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے صرف اسٹیل کی فی اسکوائر لاگت 400 تا 500 روپے بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح سیمنٹ کی قیمت جنوری سے اب تک تقریباً 100 روپے بڑھ چکی ہے جبکہ ٹائلز، لکڑی، سینٹری آئٹمز، ریتی اور بجری سمیت دیگر میٹریل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

عارف جیوا کے مطابق بلڈنگ میٹرل مہنگا ہونے کی وجہ سے لاگت 4 سے 5 لاکھ روپے بڑھ گئی اب 35 لاکھ روپے میں سستے مکان کی تعمیرات متاثر ہوں گی۔

ایسوسی ایشن آف بلڈرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین حسن بخشی کے مطابق بلڈرز نے سریا ایک لاکھ روپے ٹن اور 525 روپے سیمنٹ کی بوری کے حساب سے لاگت نکال کر اور اپنا منافع شامل کرکے بکنگ کرلی لیکن اب سریا ور سیمنٹ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے بلڈرز کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اب کیا کریں۔

انہوں نے کہا کہ جس نے بکنگ کی ہے اس پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا جب کہ بلڈرز بھی یہ بوجھ نہیں اٹھاسکتا لہٰذا حکومت کو ہی قیمتوں میں کمی کے لیے کوئی حکمت عملی وضع کرنی پڑے گی۔

حسن بخشی نے سماء ڈیجٹل کو بتایا کہ حکومت کو سریے کی قیمت کم کرنے کے لیے درآمدی اسٹیل پر ڈیوٹی میں کمی کرنی چاہیے جس سے مقامی طور پر اجارہ داری ختم ہوگی اور قیمتیں نیچے آئیں گی۔

تعمیراتی شعبے سے وابستہ اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین جوہر قندہاری کا کہنا ہے کہ حکومت کی سب سے زیادہ توجہ کنسٹرکشن انڈسٹری پر ہے لاک ڈاؤن میں بھی سب سے پہلے اسی شعبے کو کھولا گیا۔

تعمیرات میں سب سے ضروری میٹریل سریا اور سیمنٹ ہوتا ہے جس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ دیگر فنشنگ میٹریل پر تو سمجھوتہ کیا جاسکتا

ہے لیکن یہ 2 اشیاء ناگریز ہیں اور جس طرح ان کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس کے باعث سستے مکانات تعمیر نہیں ہوسکیں گے۔ حکومت کو فوری طور پرمکانات کی لاگت کم کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیں۔

Tell to Others
0Shares
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker